جنگ، جیو گروپ پر جھوٹے الزامات، زیدحامد عدالت میں پیش نہ ہوا ، اشتہاری قرار دینےکی رپورٹ پیش. ٢ جولائی، ٢٠١٧

 z

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سیشن عدالت نے جیو، جنگ گروپ پر بھارتی ایجنٹ سمیت سنگین جھوٹے، بے بنیاد اور من گھڑت الزامات لگا کر عدالت میں پیش ( ثبوت فراہم نہ کرنے والے) نہ ہونے والے خود ساختہ دفاعی تجزیہ نگار زید حامدکو اشتہاری قرار دینے کی حتمی کارروائی شروع کر دی ہے اور مقدمہ کے تفتیشی افسر کو حکم دے دیا ہے کہ زید حامد کے راولپنڈی میں واقع رہائشی پتے پر پوسٹر چسپاں کرے اورمتصل چوک پرزید حامد کے خلاف عدالتی نوٹس کو بلند آواز میں پڑھا جائے، عدالت نے ساتھ ہی تفتیشی افسر کو سختی کے ساتھ تائید کی ہے کہ وہ مذکورہ عدالتی حکم کی تعمیل 5اگست تک یقینی بنائے، عدالت نے اس مقدمہ میں نامزد اینکر پرسن مبشر لقمان کی غیر حاضری کی درخوست بھی منظوری کرلی ہے ، ہفتےکو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی راجیش چندر راجپوت نے جیو ، جنگ گروپ اور اس کے مالک میر شکیل الرحمن پربھارتی ایجنٹ جیسے سنگین جھوٹے،بے بنیاد،من گھڑت الزامات عائد کرنے پرجیو ، جنگ گروپ کی جانب سےزید حامد اور مبشر لقمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی سے متعلق درخواست کی سماعت کی ، دوران سماعت درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں اشتہاری قرار دینے سے متعلق کارروائی کی رپورٹ پیش کی گئی اور وہ اخبارات بھی پیش کیے گئے جن میں زید حامد کے خلاف اشتہارات شائع کراگئے ہیں، دوران سماعت مقدمہ کے تفتیشی افسر نے بھی زید حامد کو اشتہاری قرار دینے سے متعلق رپورٹ پیش کی تاہم عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا اس نے اشتہاری قرار دینے کے لیے دئیے گئے طریقہ کار کو مکمل کر لیا ہے جس کے تحت پہلی کارروائی عدالتی نوٹس بورڈ پر عدالتی حکم چسپاں کرنا، دوسرا ملزم کے رہائشی پتے پر عدالتی حکم چسپاں کرنااور تیسرا مذکورہ پتے کے قریب واقع چوک پر عدالتی حکم کو بلند آواز میں پڑھنا شامل ہو تا ہے تاہم تفتیشی افسر نے بتایا کہ اس نے صرف عدالتی نوٹس بورڈ پر عدالتی حکم چسپاں کیا تھا، عدالت نے تفتیشی افسر کو بقیہ دونوں ضروری کارروائی آئندہ سماعت تک لازمی مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر جھوٹے الزامات لگانے والے دوسرے ملزم مبشر لقمان کا وکیل پیش ہوا اور مبشر لقمان کی رخصت کی درخواست دائر کی جیسے عدالت نے منظور کر تے ہوئے سماعت 5اگست کے لیے ملتوی کر دی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سیشن عدالت زید حامد کے متعدد بار وارنٹ گرفتار ی جاری کر چکی ہے لیکن زید حامد عدالتی احکامات کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہو رہا، اور نہ ہی جنگ اور جیو پر ؤ لگائے جانےوالے جھوٹے الزامات کا دفاع کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہو رہا ہے ، جس پر بالآخر مقامی عدالت نے سید زیدزمان حامد کو اشتہاری قرار دینے سے متعلق قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اگر زید حامد اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہوئے تو اس کے خلاف عدالت زیر دفعہ 87سی آر پی سی کی کارروائی کرتے ہوئےاسے اشتہاری قرار دےدے گی اور اس کی جائیداد بھی ضبط کر لی جائے گی،زید حامد نے جنگ،جیو پر بھارت سے فنڈنگ کا الزام عائد کیا اور جنگ، جیو کے گروپ چیف ایگزیکٹو و ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان پر بھارتی خفیہ ادارے را سے تعلقات کا الزام بھی لگایا۔ تفصیلات کے مطابق جیو ، جنگ گروپ اور اس کے مالک میر شکیل الرحمن پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کرنے کے لیے جیو ، جنگ گروپ نے زید حامد اور مبشر لقمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے سیشن عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ زید حامد اپنے آپ کو دفاعی تجزیہ نگار کہتا ہے جو غیر سنجید ہ اور غیر متوازن شخص ہے ، درخواست میں عدالت کو بتایا گیا کہ یکم جنوری 2010میں جیو ، جنگ گروپ نے ٹائمز آف انڈیا کے ساتھ ملکر آمن کی آشا کی مہم کا آغاز کیا جس کا مقصد دونوں ممالک ،ان کی عوام کو قریب لانا ، آمن کی راہ ہموار کرنا اور آمن کے لیےباہمی کوشیش کرنا مقصد تھا ، اس مہم کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پزیرائی ملی ، جیو ، جنگ گروپ نے پاکستانی معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں کو دور کرنے کے لیے ذرا سوچیے کے نام سے مہم کا آغاز کیا کیونکہ معاشرتی ناانصافیوں نے معاشرے کو تقسیم کر رکھا ہے ، ان مہم کا مقصد اصلاحات کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا تھا ،یہ مہمات مکمل طور پر نان پروفٹ ، نان کمرشل تھیں جن کا مقصد صرف اور صرف معاشرتی اصلاحات اور قیام امن کی کوشیش کرنا تھا ،امن کی آشا کے لے انہیں بھارت تو کیا کسی بھی ملک یا این جی اوز کی جانب سے کوئی فنڈنگ نہیں لی گئی ، لیکن مخالفین نے ان کی مثبت کوششوں کو منفی پروپیگنڈے کے لیے استعما ل کیا اور محض منفی پروپیگنڈے کے تحت جیو ، جنگ گروپ کے خلاف جھوٹے ، من گھڑے الزامات عائد کیے گئے ،خود کو دفاعی تجزیہ نگار کہلانے والے زید حامدنے جیو، جنگ گروپ کے خلاف بےبنیاد الزامات پر مبنی مہم شروع کی اور نہ صرف ذرائع ابلا غ بلکہ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر بھی جیو ، جنگ گروپ کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا اور الزام عائد کیا کہ جیو نیوز کو بھارت سے فنڈنگ کی جا رہی ہے ، زید حامد نے 15جولائی 2013کو ایک نجی ٹی وی چینل پر مبشر لقمان کے ساتھ ایک پروگرام میںدرخواست گزار ان پر الزا م عائد کیا کہ امن کی آشا اور ذرا سوچیے کے لیے انہیں بھارتی ادارے دوردرشن اور نجی این جی او سے مالی مدد دی گئی، زید حامد نے سپریم کورٹ کے میڈیا کمیشن کی رپورٹ کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ اس رپورٹ میں بھارتی فنڈنگ کے شواہد موجود ہیں ، جن کا اصل حقائق سے کوئی تعلق نہیں ، زید حامد نے میڈیا کمیشن کی رپورٹ کے اصل حقائق چھپائے اور رپورٹ کو مسخ کرکے پیش کیاجبکہ اس وقت کے چیرمین پیمرا نےمیڈیا کمیشن سے متعلق الزامات کو بے بنیاد قرار دیا،زید حامد کی جانب سے عائد کیے جانے والے الزامات جھوٹے ، من گھڑت اور بے بنیاد ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ، مذکورہ الزامات جیو اور جنگ گروپ کے خلاف چلائی جانے والی مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد جیو ، جنگ گروپ کی ساکھ اور شہرت کو نقصان پہنچانا ہے،جھوٹے الزامات پر زید حامد کو قانونی نوٹس بھی ارسال کیا گیا مگر زید حامد نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ، زید حامد کو موقعہ دیا گیا کہ وہ ان جھوٹے الزامات پر غیر مشروط معافی مانگے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس نوعیت کےسنگین الزامات قانون کی گرفت میں آتے ہیں لہذا استدعا ہے کہ زید حامد اور مبشر لقمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 500& 501پی پی سی کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔یاد رہے کہ زید حامد کے خلاف جیو،جنگ گروپ کو بدنام کرنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ زید حامد نے جیو،جنگ گروپ کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کیے۔علاوہ ازیں ایک جعلی ای میل کو بنیاد بنا کر اے آر وائی کے 25اکتوبر 2013کے ٹی وی ٹاک شو کھرا سچ میں مبشر لقمان نے جیو،جنگ کے گروپ چیف ایگزیکٹو و ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان پر بھارت کی خفیہ ایجنسی را سے تعلقات کا جھوٹا الزام عائد کیا تھا۔اس پروگرام میں زید حامد بھی شریک تھے اور انہوں نے بھی الزام عائد کیا تھا کہ یہ پاکستان کے خلاف اتنی بڑی غداری ہے اور اس میں جیو گروپ کے تعلقات ’را‘ اور انڈین انٹیلی جنس کے ساتھ سامنے آجاتے ہیں، یہ میمو گیٹ سے بڑا اسکینڈل بن جائے گا۔انہوں نے یہ الزامات سوشل میڈیا پر بھی جاری کیے تھے۔ زید حامد اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے تھے۔اب زید حامد کے خلاف قومی اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کرائے جاچکے ہیں اور اگر اب زید حامد عدالت میں پیش نہ ہوئے تو نہ صرف انہیں اشتہاری قرار دیدیا جائے گا بلکہ ان کی جائیداد بھی ضبط کرلی جائیگی۔ یاد رہے کہ جھوٹے ، بے بنیاد اور من گھڑت الزامات پر جنگ، جیو کے گروپ چیف ایگزیکٹو و ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان نے اے آر وائی کے خلاف برطانیہ میں مقدمہ دائر کیا جہاں اے آر وائی مقدمہ ہار چکا ہے اور اسے بھاری ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اےآر وائی نے برطانوی عدالت میں یہ تسلیم کرلیا تھا کہ اس کے پاس جنگ،جیو گروپ پر لگائے گئے الزامات کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔

لنک: روزنامہ جنگ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s