روزنامہ جنگ: جنگ جیو گروپ پر جھوٹے الزامات، زیدحامد کو اشتہاری قرار دینے کی قانونی کارروائی کا آغاز. جولائی ١، ٢٠١٧

z

کراچی (اسٹاف رپورٹر) خود کو دفاعی تجزیہ نگار کا دعویٰ کرنے والے زید حامد جیو، جنگ گروپ پر جھوٹے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات لگا کر عدالت سے راہ فرار اختیار کئے ہوئے ہیں جو مسلسل عدالتی نوٹس کے باوجود عدالت کا سامنا کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی جنگ اور جیو پر لگائے جانے والے الزامات کا دفاع کرنے کےلیے عدالت میں پیش ہو رہاہے جس پر بالآخر مقامی عدالت نے سید زید زمان حامد کو اشتہاری قرار دینےسے متعلق قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔
مقدمے سے بچنے کےلیے زید حامد دو مرتبہ اپنی رہائش تبدیل کرچکا ہے، تیسری رہائش گاہ پر عزیزوں کے ساتھ ہے، باہر سکیورٹی گارڈ بٹھا رکھے ہیں، سمن وصول نہیں کرتا،عدالت نے زید حامد کے خلاف اخبارات میں اشتہارات شائع کرادیے ہیں اور اگرزید حامد اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہوا تو اس کے خلاف عدالت زیردفعہ 87سی آر پی سی کی کارروائی کرتے ہوئے اسے اشتہاری قراردیدے گی اور اس کی جائیداد بھی ضبط کر لی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق جنگ /جیو کے گروپ چیف ایگزیکٹو و ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کرنےپر جیو، جنگ گروپ نے زید حامد اور مبشر لقمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کےلیے سیشن عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ زید حامد اپنے آپ کو دفاعی تجزیہ نگار کہتا ہے جو غیرسنجیدہ اور غیرمتوازن شخص ہے۔ درخواست میں عدالت کو بتایا گیا کہ یکم جنوری 2010 میں جیو، جنگ گروپ نے ٹائمز آف انڈیا کے ساتھ مل کر امن کی آشا کی مہم کا آغاز کیا جس کا مقصد دونوں ممالک، ان کے عوام کو قریب لانا، امن کی راہ ہموار کرنا اور امن کےلیے باہمی کوششیں کرناتھا اس مہم کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی۔
جیو، جنگ گروپ نے پاکستانی معاشرے میں ہونیوالی ناانصافیوں کو دور کرنے کےلیے ذرا سوچئے کے نام سے مہم کا آغاز کیا کیونکہ معاشرتی ناانصافیوں نے معاشرے کو تقسیم کر رکھا ہے ان مہمات کا مقصد اصلاحات کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا تھا۔
یہ مہمات مکمل طور پر نان پرافٹ، نان کمرشل تھیں جن کا مقصد صرف اور صرف معاشرتی اصلاحات اور قیام امن کی کوششیں کرنا تھا، امن کی آشا کےلیے انہیں بھارت تو کیا کسی بھی ملک یا این جی اوز کی جانب سے کوئی فنڈنگ نہیں کی گئی لیکن مخالفین نے ان کی مثبت کوششوں کو منفی پروپیگنڈے کےلیے استعمال کیا اور محض منفی پروپیگنڈے کے تحت جیو، جنگ گروپ کے خلاف جھوٹے، من گھڑت الزامات عائدکئے گئے، خود کو دفاعی تجزیہ نگار کہلانے والے زید حامد نے جیو، جنگ گروپ کے خلاف بے بنیاد الزامات پر مبنی مہم شروع کی اور نہ صرف ذرائع ابلاغ بلکہ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر بھی جیو، جنگ گروپ کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا اور الزام عائد کیا کہ جیو نیوز کو بھارت سے فنڈنگ کی جا رہی ہے۔
زید حامد نے 15 جولائی 2013 کو ایک نجی ٹی وی چینل پر مبشر لقمان کے ساتھ ایک پروگرام میں درخواست گزار ان پر الزام عائد کیا کہ امن کی آشا اور ذرا سوچئے کےلیے انہیں بھارتی ادارے دوردرشن اور نجی این جی او سے مالی مدد دی گئی۔
زید حامد نے سپریم کورٹ کے میڈیا کمیشن کی رپورٹ کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ اس رپورٹ میں بھارتی فنڈنگ کے شواہد موجود ہیں جن کا اصل حقائق سے کوئی تعلق نہیں ۔ زیدحامد نے میڈیا کمیشن کی رپورٹ کے اصل حقائق چھپائے اور رپورٹ کو مسخ کر کے پیش کیا جبکہ اس وقت کے چیئرمین پیمرا نے میڈیا کمیشن سے متعلق الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔
زیدحامد کی جانب سے عائدکئے جانے والے الزامات جھوٹے من گھڑت اور بے بنیاد ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ مذکورہ الزامات جیو اور جنگ گروپ کے خلاف چلائی جانے والی مہم کا حصہ ہیںجس کا مقصد جیو، جنگ گروپ کی ساکھ اور شہرت کونقصان پہنچانا ہے، جھوٹے الزامات پر زید حامد کو قانونی نوٹس بھی ارسال کیا گیا مگر زید حامد نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔
زید حامد کو موقع دیا گیا کہ وہ ان جھوٹے الزامات پر غیرمشروط معافی مانگے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس نوعیت کے سنگین الزامات قانون کی گرفت میں آتے ہیں لہٰذا استدعا ہے کہ زید حامد اور مبشر لقمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 501 & 500 پی پی سی کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سیشن عدالت زید حامد کے متعدد بار وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہے تاہم زید حامد عدالتی احکامات کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہو رہے جس پر درخواست گزار نے زید حامد کی مسلسل غیرحاضری پر انہیںاشتہاری قرار دینے کی درخواست دائر کر دی ہے جس پر عدالت اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ زید حامد کے خلاف جیو، جنگ گروپ کو بدنام کرنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ زید حامد نے جیو، جنگ کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کئے۔
ایک جعلی ای میل کو بنیاد بنا کر اے آر وائی کے 25اکتوبر 2013کے پروگرام کھرا سچ میں مبشر لقمان نے جنگ/ جیو کے گروپ چیف ایگزیکٹو وایڈیٹرانچیف میر شکیل الرحمٰن پر بھارت کی خفیہ ایجنسی را سے تعلقات کا جھوٹا الزام عائد کیا تھا۔
اس پروگرام میں زید حامد بھی شریک تھے اور انہوں نے بھی الزام عائد کیا تھا کہ یہ پاکستان کے خلاف اتنی بڑی غداری ہے اور اس میں جیو گروپ کے تعلقات رااور انڈین انٹلیجنس کے ساتھ سامنے آجاتے ہیں یہ میمو سے بڑا اسکینڈل بن جائے گا کہ پاکستان کا ایک میڈیا گروپ کس طرح صحافت، بغاوت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ انہوں نے یہ الزامات سوشل میڈیا پر بھی جاری کئے تھے۔
زید حامد اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکے۔اب عدالت کی جانب سے زید حامد کے خلاف قومی اخبارات میں اشتہارات شائع کرائے جاچکے ہیں اور اگر اب زید حامد عدالت میں پیش نہ ہوئے تو نہ صرف اسے اشتہاری قرار دیدیا جائے گا بلکہ اس کی جائیداد بھی ضبط کرلی جائے گی۔
یاد رہے کہ مبشر لقمان کراچی کی مقامی عدالت میں مقدمہ کا سامنا کررہے ہیں اور پیش ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جھوٹے، من گھڑت اور بے بنیاد الزامات عائد کرنے پر جنگ /جیو کے گروپ چیف ایگزیکٹو وایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن نے اے آر وائی کے خلاف برطانیہ میں مقدمہ دائرکیاجہاں اے آر وائی مقدمہ ہار چکا ہے اور اسے بھاری ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ا ے آر وائی نے برطانوی عدالت کو یہ تسلیم کر لیا تھا کہ اس کے پاس جنگ/ جیو پر لگائے گئے الزامات کے کوئی ثبوت نہیں۔

لنک: روزنامہ جنگ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s