The News: Zaid Hamid remains absent from court. July 2, 2017

KARACHI: The sessions court has started the final legal proceedings against self-proclaimed and ‘so-called’ defence analyst Zaid Hamid to declare him ‘wanted’. The proceedings against him have been initiated on the following grave charges: levelling false, baseless allegations against the Geo/Jang Group and labelling the Geo/Jang Group as Indian agents. Zaid Hamid falsely accused the Geo/Jang Group of taking funds from India for ‘Aman Ki Asha’ and ‘Zara Sochiye’.

The court has ordered the investigation officer of this case to stick court orders at Zaid Hamid’s Rawalpindi residence. The court has also ordered to read aloud the court notices against Zaid Hamid near his home. The investigation officer has been advised to fulfil the court orders until August 5, 2017.

On the other hand, the court has accepted the absence application of the other defendant in this case, Mubasher Lucman.

Additional District and Sessions Judge (South) Rajesh Chandar Rajput on Saturday heard the case application filed by the Geo/Jang Group against Zaid Hamid and Mubasher Lucman for levelling false accusations against the group in the case and wrongly labelling Chief Executive and Editor-in-Chief Jang Group of Newspapers Mir Shakil-ur-Rahman as an Indian agent. The plaintiff had presented its report in the case for declaring Zaid Hamid ‘wanted’; and the plaintiff also presented all the newspapers in which advertisements against Zaid Hamid were published. The investigation officer also presented the report for declaring Zaid Hamid ‘wanted’. Following this, the court questioned the investigation officer if he had completed the process for declaring a person ‘wanted’, which included: sticking the court orders on the notice board of court, sticking court’s orders in front of the residence of the accused and reading aloud the court orders near the residence of accused.

In return, the investigation officer said that he had only put up the court orders on the court’s notice board. The court, then, ordered that the following two steps must be completed before the next hearing in order to declare the accused a ‘wanted’ person.

On this hearing, the other person who levelled fake allegations against the Geo/Jang Group, Mubasher Lucman, was not able to show up. Lucman’s lawyer appeared before the court and filed an application for his absence, which was approved by the court and the hearing was postponed until August 5, 2017.

It is worth-mentioning here that self-proclaimed defence analyst Zaid Hamid is on the run from the court after levelling false and baseless allegations against the Geo/Jang Group. Hamid is continuously ignoring court notices and is not ready to face the court. He is not ready to appear before the court to defend the false allegations, which he levelled against the Jang/Geo Group.

As a result, the local court has started legal proceedings to declare Zaid Hamid a ‘wanted’ person. The court has already issued advertisements against Zaid Hamid in newspapers. As per the details, Zaid Hamid and Mubasher Lucman had levelled false and baseless allegations against Mir Shakil-ur-Rahman. In this regard, an application was filed in the sessions court for legal proceedings against Zaid Hamid. The application adopted the stance that Zaid Hamid called himself a so-called ‘defence analyst’, while he was an extremely non-serious and non-reliable person.

In this application, the court was told that on January 1, 2010, Geo and Jang Group started a campaign, ‘Aman Ki Asha’, in collaboration with the Times of India. The aim of this campaign was to bring both countries (Pakistan and India) and its people closer, create a path for flourishing peace and make mutual efforts to uphold peace in the region. This campaign got national and international acclaim. The Geo and Jang Group also started a campaign, ‘Zara Sochiye’, to curb social injustices from Pakistan. This campaign was started to bring a positive change in the Pakistani society because social injustices had compartmentalised the entire society into various groups.

It was also mentioned in the application that these campaigns were completely non-profit and non-commercial, targeting to bring social reforms and making efforts to uphold peace. For ‘Aman Ki Asha’, no country—not even India—had provided financial support to the Geo and Jang Group. However, the positive endeavours of the Geo and Jang Group were targeted by negative groups to do propaganda against these campaigns.

‘Self-proclaimed’ defence analyst Zaid Hamid levelled false and baseless allegations against the Geo and Jang Group and started a campaign against them. Hamid not only used the conventional media to fan the flames of negativity against the Geo and Jang Group, but he also used Facebook and other social media avenues to accuse the group of obtaining funds from India to do these campaigns.

 

Source: The News

Advertisements

جنگ، جیو گروپ پر جھوٹے الزامات، زیدحامد عدالت میں پیش نہ ہوا ، اشتہاری قرار دینےکی رپورٹ پیش. ٢ جولائی، ٢٠١٧

 z

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سیشن عدالت نے جیو، جنگ گروپ پر بھارتی ایجنٹ سمیت سنگین جھوٹے، بے بنیاد اور من گھڑت الزامات لگا کر عدالت میں پیش ( ثبوت فراہم نہ کرنے والے) نہ ہونے والے خود ساختہ دفاعی تجزیہ نگار زید حامدکو اشتہاری قرار دینے کی حتمی کارروائی شروع کر دی ہے اور مقدمہ کے تفتیشی افسر کو حکم دے دیا ہے کہ زید حامد کے راولپنڈی میں واقع رہائشی پتے پر پوسٹر چسپاں کرے اورمتصل چوک پرزید حامد کے خلاف عدالتی نوٹس کو بلند آواز میں پڑھا جائے، عدالت نے ساتھ ہی تفتیشی افسر کو سختی کے ساتھ تائید کی ہے کہ وہ مذکورہ عدالتی حکم کی تعمیل 5اگست تک یقینی بنائے، عدالت نے اس مقدمہ میں نامزد اینکر پرسن مبشر لقمان کی غیر حاضری کی درخوست بھی منظوری کرلی ہے ، ہفتےکو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی راجیش چندر راجپوت نے جیو ، جنگ گروپ اور اس کے مالک میر شکیل الرحمن پربھارتی ایجنٹ جیسے سنگین جھوٹے،بے بنیاد،من گھڑت الزامات عائد کرنے پرجیو ، جنگ گروپ کی جانب سےزید حامد اور مبشر لقمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی سے متعلق درخواست کی سماعت کی ، دوران سماعت درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں اشتہاری قرار دینے سے متعلق کارروائی کی رپورٹ پیش کی گئی اور وہ اخبارات بھی پیش کیے گئے جن میں زید حامد کے خلاف اشتہارات شائع کراگئے ہیں، دوران سماعت مقدمہ کے تفتیشی افسر نے بھی زید حامد کو اشتہاری قرار دینے سے متعلق رپورٹ پیش کی تاہم عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا اس نے اشتہاری قرار دینے کے لیے دئیے گئے طریقہ کار کو مکمل کر لیا ہے جس کے تحت پہلی کارروائی عدالتی نوٹس بورڈ پر عدالتی حکم چسپاں کرنا، دوسرا ملزم کے رہائشی پتے پر عدالتی حکم چسپاں کرنااور تیسرا مذکورہ پتے کے قریب واقع چوک پر عدالتی حکم کو بلند آواز میں پڑھنا شامل ہو تا ہے تاہم تفتیشی افسر نے بتایا کہ اس نے صرف عدالتی نوٹس بورڈ پر عدالتی حکم چسپاں کیا تھا، عدالت نے تفتیشی افسر کو بقیہ دونوں ضروری کارروائی آئندہ سماعت تک لازمی مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر جھوٹے الزامات لگانے والے دوسرے ملزم مبشر لقمان کا وکیل پیش ہوا اور مبشر لقمان کی رخصت کی درخواست دائر کی جیسے عدالت نے منظور کر تے ہوئے سماعت 5اگست کے لیے ملتوی کر دی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سیشن عدالت زید حامد کے متعدد بار وارنٹ گرفتار ی جاری کر چکی ہے لیکن زید حامد عدالتی احکامات کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہو رہا، اور نہ ہی جنگ اور جیو پر ؤ لگائے جانےوالے جھوٹے الزامات کا دفاع کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہو رہا ہے ، جس پر بالآخر مقامی عدالت نے سید زیدزمان حامد کو اشتہاری قرار دینے سے متعلق قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اگر زید حامد اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہوئے تو اس کے خلاف عدالت زیر دفعہ 87سی آر پی سی کی کارروائی کرتے ہوئےاسے اشتہاری قرار دےدے گی اور اس کی جائیداد بھی ضبط کر لی جائے گی،زید حامد نے جنگ،جیو پر بھارت سے فنڈنگ کا الزام عائد کیا اور جنگ، جیو کے گروپ چیف ایگزیکٹو و ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان پر بھارتی خفیہ ادارے را سے تعلقات کا الزام بھی لگایا۔ تفصیلات کے مطابق جیو ، جنگ گروپ اور اس کے مالک میر شکیل الرحمن پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کرنے کے لیے جیو ، جنگ گروپ نے زید حامد اور مبشر لقمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے سیشن عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ زید حامد اپنے آپ کو دفاعی تجزیہ نگار کہتا ہے جو غیر سنجید ہ اور غیر متوازن شخص ہے ، درخواست میں عدالت کو بتایا گیا کہ یکم جنوری 2010میں جیو ، جنگ گروپ نے ٹائمز آف انڈیا کے ساتھ ملکر آمن کی آشا کی مہم کا آغاز کیا جس کا مقصد دونوں ممالک ،ان کی عوام کو قریب لانا ، آمن کی راہ ہموار کرنا اور آمن کے لیےباہمی کوشیش کرنا مقصد تھا ، اس مہم کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پزیرائی ملی ، جیو ، جنگ گروپ نے پاکستانی معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں کو دور کرنے کے لیے ذرا سوچیے کے نام سے مہم کا آغاز کیا کیونکہ معاشرتی ناانصافیوں نے معاشرے کو تقسیم کر رکھا ہے ، ان مہم کا مقصد اصلاحات کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا تھا ،یہ مہمات مکمل طور پر نان پروفٹ ، نان کمرشل تھیں جن کا مقصد صرف اور صرف معاشرتی اصلاحات اور قیام امن کی کوشیش کرنا تھا ،امن کی آشا کے لے انہیں بھارت تو کیا کسی بھی ملک یا این جی اوز کی جانب سے کوئی فنڈنگ نہیں لی گئی ، لیکن مخالفین نے ان کی مثبت کوششوں کو منفی پروپیگنڈے کے لیے استعما ل کیا اور محض منفی پروپیگنڈے کے تحت جیو ، جنگ گروپ کے خلاف جھوٹے ، من گھڑے الزامات عائد کیے گئے ،خود کو دفاعی تجزیہ نگار کہلانے والے زید حامدنے جیو، جنگ گروپ کے خلاف بےبنیاد الزامات پر مبنی مہم شروع کی اور نہ صرف ذرائع ابلا غ بلکہ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر بھی جیو ، جنگ گروپ کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا اور الزام عائد کیا کہ جیو نیوز کو بھارت سے فنڈنگ کی جا رہی ہے ، زید حامد نے 15جولائی 2013کو ایک نجی ٹی وی چینل پر مبشر لقمان کے ساتھ ایک پروگرام میںدرخواست گزار ان پر الزا م عائد کیا کہ امن کی آشا اور ذرا سوچیے کے لیے انہیں بھارتی ادارے دوردرشن اور نجی این جی او سے مالی مدد دی گئی، زید حامد نے سپریم کورٹ کے میڈیا کمیشن کی رپورٹ کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ اس رپورٹ میں بھارتی فنڈنگ کے شواہد موجود ہیں ، جن کا اصل حقائق سے کوئی تعلق نہیں ، زید حامد نے میڈیا کمیشن کی رپورٹ کے اصل حقائق چھپائے اور رپورٹ کو مسخ کرکے پیش کیاجبکہ اس وقت کے چیرمین پیمرا نےمیڈیا کمیشن سے متعلق الزامات کو بے بنیاد قرار دیا،زید حامد کی جانب سے عائد کیے جانے والے الزامات جھوٹے ، من گھڑت اور بے بنیاد ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ، مذکورہ الزامات جیو اور جنگ گروپ کے خلاف چلائی جانے والی مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد جیو ، جنگ گروپ کی ساکھ اور شہرت کو نقصان پہنچانا ہے،جھوٹے الزامات پر زید حامد کو قانونی نوٹس بھی ارسال کیا گیا مگر زید حامد نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ، زید حامد کو موقعہ دیا گیا کہ وہ ان جھوٹے الزامات پر غیر مشروط معافی مانگے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس نوعیت کےسنگین الزامات قانون کی گرفت میں آتے ہیں لہذا استدعا ہے کہ زید حامد اور مبشر لقمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 500& 501پی پی سی کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔یاد رہے کہ زید حامد کے خلاف جیو،جنگ گروپ کو بدنام کرنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ زید حامد نے جیو،جنگ گروپ کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کیے۔علاوہ ازیں ایک جعلی ای میل کو بنیاد بنا کر اے آر وائی کے 25اکتوبر 2013کے ٹی وی ٹاک شو کھرا سچ میں مبشر لقمان نے جیو،جنگ کے گروپ چیف ایگزیکٹو و ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان پر بھارت کی خفیہ ایجنسی را سے تعلقات کا جھوٹا الزام عائد کیا تھا۔اس پروگرام میں زید حامد بھی شریک تھے اور انہوں نے بھی الزام عائد کیا تھا کہ یہ پاکستان کے خلاف اتنی بڑی غداری ہے اور اس میں جیو گروپ کے تعلقات ’را‘ اور انڈین انٹیلی جنس کے ساتھ سامنے آجاتے ہیں، یہ میمو گیٹ سے بڑا اسکینڈل بن جائے گا۔انہوں نے یہ الزامات سوشل میڈیا پر بھی جاری کیے تھے۔ زید حامد اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے تھے۔اب زید حامد کے خلاف قومی اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کرائے جاچکے ہیں اور اگر اب زید حامد عدالت میں پیش نہ ہوئے تو نہ صرف انہیں اشتہاری قرار دیدیا جائے گا بلکہ ان کی جائیداد بھی ضبط کرلی جائیگی۔ یاد رہے کہ جھوٹے ، بے بنیاد اور من گھڑت الزامات پر جنگ، جیو کے گروپ چیف ایگزیکٹو و ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان نے اے آر وائی کے خلاف برطانیہ میں مقدمہ دائر کیا جہاں اے آر وائی مقدمہ ہار چکا ہے اور اسے بھاری ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اےآر وائی نے برطانوی عدالت میں یہ تسلیم کرلیا تھا کہ اس کے پاس جنگ،جیو گروپ پر لگائے گئے الزامات کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔

لنک: روزنامہ جنگ

روزنامہ جنگ: جنگ جیو گروپ پر جھوٹے الزامات، زیدحامد کو اشتہاری قرار دینے کی قانونی کارروائی کا آغاز. جولائی ١، ٢٠١٧

z

کراچی (اسٹاف رپورٹر) خود کو دفاعی تجزیہ نگار کا دعویٰ کرنے والے زید حامد جیو، جنگ گروپ پر جھوٹے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات لگا کر عدالت سے راہ فرار اختیار کئے ہوئے ہیں جو مسلسل عدالتی نوٹس کے باوجود عدالت کا سامنا کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی جنگ اور جیو پر لگائے جانے والے الزامات کا دفاع کرنے کےلیے عدالت میں پیش ہو رہاہے جس پر بالآخر مقامی عدالت نے سید زید زمان حامد کو اشتہاری قرار دینےسے متعلق قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔
مقدمے سے بچنے کےلیے زید حامد دو مرتبہ اپنی رہائش تبدیل کرچکا ہے، تیسری رہائش گاہ پر عزیزوں کے ساتھ ہے، باہر سکیورٹی گارڈ بٹھا رکھے ہیں، سمن وصول نہیں کرتا،عدالت نے زید حامد کے خلاف اخبارات میں اشتہارات شائع کرادیے ہیں اور اگرزید حامد اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہوا تو اس کے خلاف عدالت زیردفعہ 87سی آر پی سی کی کارروائی کرتے ہوئے اسے اشتہاری قراردیدے گی اور اس کی جائیداد بھی ضبط کر لی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق جنگ /جیو کے گروپ چیف ایگزیکٹو و ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کرنےپر جیو، جنگ گروپ نے زید حامد اور مبشر لقمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کےلیے سیشن عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ زید حامد اپنے آپ کو دفاعی تجزیہ نگار کہتا ہے جو غیرسنجیدہ اور غیرمتوازن شخص ہے۔ درخواست میں عدالت کو بتایا گیا کہ یکم جنوری 2010 میں جیو، جنگ گروپ نے ٹائمز آف انڈیا کے ساتھ مل کر امن کی آشا کی مہم کا آغاز کیا جس کا مقصد دونوں ممالک، ان کے عوام کو قریب لانا، امن کی راہ ہموار کرنا اور امن کےلیے باہمی کوششیں کرناتھا اس مہم کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی۔
جیو، جنگ گروپ نے پاکستانی معاشرے میں ہونیوالی ناانصافیوں کو دور کرنے کےلیے ذرا سوچئے کے نام سے مہم کا آغاز کیا کیونکہ معاشرتی ناانصافیوں نے معاشرے کو تقسیم کر رکھا ہے ان مہمات کا مقصد اصلاحات کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا تھا۔
یہ مہمات مکمل طور پر نان پرافٹ، نان کمرشل تھیں جن کا مقصد صرف اور صرف معاشرتی اصلاحات اور قیام امن کی کوششیں کرنا تھا، امن کی آشا کےلیے انہیں بھارت تو کیا کسی بھی ملک یا این جی اوز کی جانب سے کوئی فنڈنگ نہیں کی گئی لیکن مخالفین نے ان کی مثبت کوششوں کو منفی پروپیگنڈے کےلیے استعمال کیا اور محض منفی پروپیگنڈے کے تحت جیو، جنگ گروپ کے خلاف جھوٹے، من گھڑت الزامات عائدکئے گئے، خود کو دفاعی تجزیہ نگار کہلانے والے زید حامد نے جیو، جنگ گروپ کے خلاف بے بنیاد الزامات پر مبنی مہم شروع کی اور نہ صرف ذرائع ابلاغ بلکہ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر بھی جیو، جنگ گروپ کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا اور الزام عائد کیا کہ جیو نیوز کو بھارت سے فنڈنگ کی جا رہی ہے۔
زید حامد نے 15 جولائی 2013 کو ایک نجی ٹی وی چینل پر مبشر لقمان کے ساتھ ایک پروگرام میں درخواست گزار ان پر الزام عائد کیا کہ امن کی آشا اور ذرا سوچئے کےلیے انہیں بھارتی ادارے دوردرشن اور نجی این جی او سے مالی مدد دی گئی۔
زید حامد نے سپریم کورٹ کے میڈیا کمیشن کی رپورٹ کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ اس رپورٹ میں بھارتی فنڈنگ کے شواہد موجود ہیں جن کا اصل حقائق سے کوئی تعلق نہیں ۔ زیدحامد نے میڈیا کمیشن کی رپورٹ کے اصل حقائق چھپائے اور رپورٹ کو مسخ کر کے پیش کیا جبکہ اس وقت کے چیئرمین پیمرا نے میڈیا کمیشن سے متعلق الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔
زیدحامد کی جانب سے عائدکئے جانے والے الزامات جھوٹے من گھڑت اور بے بنیاد ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ مذکورہ الزامات جیو اور جنگ گروپ کے خلاف چلائی جانے والی مہم کا حصہ ہیںجس کا مقصد جیو، جنگ گروپ کی ساکھ اور شہرت کونقصان پہنچانا ہے، جھوٹے الزامات پر زید حامد کو قانونی نوٹس بھی ارسال کیا گیا مگر زید حامد نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔
زید حامد کو موقع دیا گیا کہ وہ ان جھوٹے الزامات پر غیرمشروط معافی مانگے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس نوعیت کے سنگین الزامات قانون کی گرفت میں آتے ہیں لہٰذا استدعا ہے کہ زید حامد اور مبشر لقمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 501 & 500 پی پی سی کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سیشن عدالت زید حامد کے متعدد بار وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہے تاہم زید حامد عدالتی احکامات کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہو رہے جس پر درخواست گزار نے زید حامد کی مسلسل غیرحاضری پر انہیںاشتہاری قرار دینے کی درخواست دائر کر دی ہے جس پر عدالت اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ زید حامد کے خلاف جیو، جنگ گروپ کو بدنام کرنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ زید حامد نے جیو، جنگ کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کئے۔
ایک جعلی ای میل کو بنیاد بنا کر اے آر وائی کے 25اکتوبر 2013کے پروگرام کھرا سچ میں مبشر لقمان نے جنگ/ جیو کے گروپ چیف ایگزیکٹو وایڈیٹرانچیف میر شکیل الرحمٰن پر بھارت کی خفیہ ایجنسی را سے تعلقات کا جھوٹا الزام عائد کیا تھا۔
اس پروگرام میں زید حامد بھی شریک تھے اور انہوں نے بھی الزام عائد کیا تھا کہ یہ پاکستان کے خلاف اتنی بڑی غداری ہے اور اس میں جیو گروپ کے تعلقات رااور انڈین انٹلیجنس کے ساتھ سامنے آجاتے ہیں یہ میمو سے بڑا اسکینڈل بن جائے گا کہ پاکستان کا ایک میڈیا گروپ کس طرح صحافت، بغاوت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ انہوں نے یہ الزامات سوشل میڈیا پر بھی جاری کئے تھے۔
زید حامد اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکے۔اب عدالت کی جانب سے زید حامد کے خلاف قومی اخبارات میں اشتہارات شائع کرائے جاچکے ہیں اور اگر اب زید حامد عدالت میں پیش نہ ہوئے تو نہ صرف اسے اشتہاری قرار دیدیا جائے گا بلکہ اس کی جائیداد بھی ضبط کرلی جائے گی۔
یاد رہے کہ مبشر لقمان کراچی کی مقامی عدالت میں مقدمہ کا سامنا کررہے ہیں اور پیش ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جھوٹے، من گھڑت اور بے بنیاد الزامات عائد کرنے پر جنگ /جیو کے گروپ چیف ایگزیکٹو وایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن نے اے آر وائی کے خلاف برطانیہ میں مقدمہ دائرکیاجہاں اے آر وائی مقدمہ ہار چکا ہے اور اسے بھاری ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ا ے آر وائی نے برطانوی عدالت کو یہ تسلیم کر لیا تھا کہ اس کے پاس جنگ/ جیو پر لگائے گئے الزامات کے کوئی ثبوت نہیں۔

لنک: روزنامہ جنگ

The News: False accusations against Jang Group: Legal process begins to declare Zaid Hamid ‘wanted’. July 1, 2017

z

KARACHI: Self-proclaimed defence analyst Zaid Hamid is on the run from the court after levelling false and baseless allegations against the Jang/Geo Group. Hamid is continuously ignoring court notices and is not ready to face the court. He is not ready to appear before the court to defend the false allegations, which he levelled against the Jang/Geo Group.

As a result, the local court has started legal proceedings to declare Zaid Hamid a ‘wanted’ person. The court has already issued advertisements against Zaid Hamid in newspapers. If Zaid Hamid would not appear before the court, even after reading those advertisements, then the court would declare him a ‘wanted’ person and confiscate his property under Section 87 of CrPC.

As per the details, Zaid Hamid and Mubasher Lucman had levelled false and baseless allegations against Chief Executive and Editor-in-Chief Jang Group of Newspapers Mir Shakil-ur-Rahman. In this regard, an application was filed in the sessions court for legal proceedings against Zaid Hamid. The application adopted the stance that Zaid Hamid called himself a so-called ‘defence analyst’, while he was an extremely non-serious and non-reliable person.

In this application, the court was told that on January 1, 2010, Geo and Jang Group started a campaign, ‘Aman Ki Asha’, in collaboration with the Times of India. The aim of this campaign was to bring both countries (Pakistan and India) and its people closer, create a path for flourishing peace and make mutual efforts to uphold peace in the region. This campaign got national and international acclaim. The Geo and Jang Group also started a campaign, ‘Zara Sochiye’, to curb social injustices from Pakistan. This campaign was started to bring a positive change in the Pakistani society because social injustices had compartmentalised the entire society into various groups.

It was also mentioned in the application that these campaigns were completely non-profit and non-commercial, targeting to bring social reforms and making efforts to uphold peace. For ‘Aman Ki Asha’, no country—not even India—had provided financial support to the Geo and Jang Group. However, the positive endeavours of Geo and Jang Group were targeted by negative groups to do propaganda against these campaigns.

‘Self-proclaimed’ defence analyst Zaid Hamid levelled false and baseless allegations against the Geo and Jang Group and started a campaign against them. Hamid not only used the conventional media to fan the flames of negativity against the Geo and Jang Group, but he also used Facebook and other social media avenues to accuse the group of obtaining funds from India to do these campaigns.

On July 15, 2013, Zaid Hamid, on Mubasher Lucman’s programme on a private TV channel, accused that the plaintiff had taken funds from Indian organisation Doordarshan and a private NGO to run ‘Aman Ki Asha’ and ‘Zara Sochiye’. Zaid Hamid also misrepresented the report of the Supreme Court’s Media Commission by altering the facts in the report. He went on to falsely claim that there were proof of Indian funding present in the report. Hamid had hidden the real facts of the Media Commission’s report and presented the distorted facts. The then chairperson of the Pakistan Electronic Media Regulatory Authority (Pemra) had declared all allegations against the Media Commission’s report completely baseless.

The above-mentioned accusations against the plaintiff were part of the propaganda campaign. The motive of levelling such grave allegations against the Geo and Jang Group was to hurt their credibility and popularity.

For levelling groundless allegations, Zaid Hamid was also sent a legal notice but to no avail. Zaid Hamid was also given a chance to seek an unconditional apology from the plaintiff for those fake accusations.

In the application, the stance was adopted that crimes of such extreme nature fall under the law; therefore, the plaintiff prayed to the court that legal proceeding should be started against Zaid Hamid and Mubasher Lucman under sections 500 and 501 of the Pakistan Penal Code (PPC).

It must be clear that the sessions court had sent legal notices to Zaid Hamid several times. However, Zaid Hamid failed to present himself before the court. Therefore, the plaintiff had filed an application before the court to declare Zaid Hamid a ‘wanted’ person for his continuous absence from the court even after legal notices were sent to him. The court has begun its legal course of action with respect to this application.

It is worth-mentioning here that an application has also been filed in the Islamabad High Court against Zaid Hamid for dishonouring the Geo and Jang Group. In this application, the court was informed that Zaid Hamid had levelled baseless accusations against the Geo and Jang Group.

In ARY’s programme ‘Khara Sach’ on October 25, 2013, Mubasher Lucman had wrongly accused Chief Executive and Editor-in-Chief Jang Group of Newspapers Mir Shakil-ur-Rehman for having a connection with India’s intelligence agency, the Research and Analysis Wing (RAW).

Zaid Hamid was also present on this show. He also wrongly accused the Geo and Jang Group of treason. He also said that in this regard, the relations of Geo Group and RAW and Indian intelligence agencies will come to the forefront, adding that this will become even a bigger scandal than the Memo scandal, highlighting how a media group’s journalism turned into rebellion.

Hamid also levelled these erroneous charges on the plaintiff using social media simultaneously. On the other hand, Hamid was not able to produce any evidence before the Islamabad High Court in this case. As per the current situation, advertisements against Zaid Hamid have been given in national newspapers. If Zaid Hamid would fail to appear before the court now, he will be declared a ‘wanted’ person and his property will also be confiscated.

It is important to note that Mubasher Lucman is facing the trial in Karachi’s local court in this case. He is appearing before the court. It is also worth-mentioning here that ARY has already lost the legal battle in a UK court in this regard and a heavy fine was also imposed on ARY. In the UK court, ARY had accepted that it had no evidence for the allegations levelled against the Geo and Jang Group in its programmes.

Source: The News.